Imam Naqi a.s Introduction

⁠⁠⁠🍀 سلسلہ معرفت امامت : 

📚 امام نقى عليہ السلام كى شخصيت كا مختصر تعارف : 
 🅾 نسبِ عالى :

🔹 نام : على 

🔹 شجرہ نسب : على بن محمد بن على بن جعفر بن محمد بن على بن حسين بن على بن أبى طالب عليہم السلام 
🔹 والد گرامى : امام محمد تقى عليہ السلام 

🔹 والدہ ماجدہ : سُمَانَة،  جوكہ سمانہ غربيہ كے نام سے معروف ہيں اور انہيں ام الفضل بھى كہا جاتا ہے ۔ يہ كنيز تھيں ۔ امام تقى عليہ السلام كى دو زوجہ كو امّ الفضل كہا جاتا ہے، ايك مامون كى بيٹى تھى جس نے امام عليہ السلام كو زہر دے كر شہيد كيا اور ايك ان كى عظيم منزلت زوجہ محترمہ جناب سمانہ تھيں۔ ان دونوں ميں فرق كے ليے كنيز سے تعارف كروايا جاتا ہے۔ 
🔹 كنيت : أبو الحسن، ’’ ابو الحسن‘‘ پانچ آئمہ عليہم السلام ( امام على، امام سجاد، امام موسى كاظم ، امام رضا اور امام نقى عليہم السلام) كى كنيت ہے۔ علم حديث ميں فرق كرنے كے ليے امام نقى عليہ السلام كو ابو الحسن ثالث يا ابو الحسن اخير كہا جاتا ہے ۔ 
🔹 القاب: ہادى ، نقى ۔ يہ دو القاب معروف ترين القاب ہيں۔ بقيہ القاب درج ذيل ہيں : 

النجيب، المرتضى، العالم، الفقيه، الأمين، الناصح، المفتاح، المؤتمن، الطيب، العسكري، متوكل۔ 

🔸 عسكرى لقب امام نقى اور امام حسن عسكرى عليہما السلام ہر دو كا لقب ہے ۔ اسى طرح ’’ ابن الرضا‘‘ كے عنوان سے امام تقى اور امام نقى عليہما السلام كو پكارا جاتا تھا۔ 

🔸 متوكل حقيقت ميں امام نقى عليہ السلام كا لقب ہے ليكن امام ع نے اس كو مخفى ركھنے كا حكم ديا كيونكہ اس دور ميں ظالم عباسى بادشاہ كا بھى يہى لقب تھا ۔ 

🔻 ولادت با سعادت: شيخ مفيد رحمہ اللہ نے كتاب الارشاد ميں تصريح كى ہے كہ آپ عليہ السلام  كى ولادت با سعادت ۱۵ ذى الحجہ ۲۱۲ ھ كو مدينہ منورہ سے تين ميل كے فاصلے پر واقع ايك ديہات ’’ صَرْيَا‘‘ ميں ہوئى ۔ صَرْيا كا گاؤں امام موسى كاظم عليہ السلام نے بنايا اور آپ عليہ السلام نے اس كو آباد كيا ۔

(الإرشاد ، ج ۲ ، ص ۲۹۷)
🔻امامت : آپ عليہ السلام كو اپنے والد گرامى كى طرح چھوٹى عمر ميں منصب امامت پر فائز ہونے كا شرف حاصل ہوا۔ آپ عليہ السلام نے آٹھ سال كى سنّ مبارك ميں امامت كى بھارى ذمہ دارى كو سنبھالا۔ امام تقى عليہ السلام سات سال كى عمر ميں اور امام نقى عليہ السلام آٹھ سال كى عمر مبارك ميں امامت كے عہدہ پر جلوہ گر ہوئے۔ 
🔻 ظالم طاغوتى بادشاہ : امام نقى عليہ السلام نے چھ عباسى طاغوتى جابر حكمرانوں كا دور پايا : 

۱) معتصم ( ۲۱۸ سے ۲۲۷ ھ )

۲) واثق ( ۲۲۷ سے ۲۳۲ ھ )

۳) متوكل ( ۲۳۲ سے ۲۴۷ ھ ) 

۴) منتصر ( ۲۴۷ سے ۲۴۸ ھ ) 

۵) مستعين ( ۲۴۸ سے ۲۵۲ ھ)

۶) معتزّ ( ۲۵۲ سے ۲۵۴ ھ )
🔹 امام نقى عليہ السلام كے دور كے اہم مسائل : 
🔸 سياسى كشمكش

۱) عباسى سلطنت كے زوال كا آغاز 

۲) حكومت كى باگ دوڑ سنبھالنے كے ليے سياسى گروہوں كى كشمكش 

۳) علاقائى تعصبات ، عربوں اور تركوں ميں قومى فسادات 

۴) عربوں ميں قبائلى تعصبات 

۵) مختلف علاقوں ميں سركشى و بغاوتيں 
🔸 عباسى حكمرانوں كا ظلم و ستم 

۶) مختلف شہروں اور محلوں ميں نظر بند كرنا ، امام رضا عليہ السلام سے امام حسن عسكرى عليہ السلام تك دشمن نے امامت كو اپنى كڑى نگرانى ميں ركھنے كے ليے عباسى مراكز ميں منتقل كر ديا اور ہر وقت ان پر نگاہ ركھى جاتى ۔ يہ سختى كا مرحلہ امامت كے ليے زندان سے سخت تر تھا كيونكہ عباسى مراكز جہاں فسق و فجور كا شكار تھے وہاں ہر لحظہ امام ع كے افعال پر نظر ركھے ہوئے ہوتے۔ 

۷) بار بار زندانوں ميں بند كرنا 

۸) علويوں اور شيعيان امام ع كو ظلم و ستم كا نشانہ بنانا 
🔸 معاشرے ميں فكرى و اخلاقى انحراف 

۹) يونانى، ايرانى، ہندى، چينى اور رومى اقوام كے داخل ہونے كى وجہ سے عقائد و نظريات كا انحرافى افكار سے مخلوط ہو جانا اور ايك سادہ شخص كے ليے صحيح عقيدہ كا حصول ممكن نہ رہنا 

۱۰) خلق قرآن اور طرح طرح كے فقہى و عقائدى مذاہب كے وجود كا مسئلہ 

۱۱) يہود و نصارى كا اسلامى مملكت ميں گہرے طور پر رسوخ كر جانا

۱۲) غالى اور نصيرى افكار كى گروہى جماعتوں كے ابھرنے كا مسئلہ، امام نقى عليہ السلام نے انتہائى سختى اور شدت كے ساتھ ان منحرف جماعتوں كے خلاف قيام كيا اور شيعوں كو ان سے ملنے ، اٹھنے بيٹھنے سے شدت كے ساتھ منع فرما ديا ۔ 

۱۳) مكتب تشيع كو كمزور كرنے كے ليے بنى ہاشم كے مختلف افراد كو امام بنا كر پيش كرنے كا مسئلہ ، يہى وجہ ہے كہ امامت كى شرائط ، معيار اور امامت كے موضوع پر دقيق اور عميق ترين معرفت سے لبريز كلام امام نقى عليہ السلام كى روايات ميں ملتا ہے ، جيسے زيارت جامعہ كبيرہ، مختلف آئمہ عليہم السلام كى زيارات كى تاكيد۔ 

۱۴) اخلاقى انحراف ، خصوصا شراب خورى ، خيانت مالى ، زنا ، رقص و سرور، كرپشن ، نا اميدى جيسے گھمبير مسائل كا ابھر آنا۔ يہى وجہ ہے كہ امام نقى عليہ السلام سے منقول روايات كا بڑا مجموعہ اخلاقيات پر مشتمل ہے۔ اسى اخلاقى انحراف كے سبب بہت سے وكلاء يا مالى خيانت كے مرتكب ہوئے يا عقائدى انحرافى افكار كے ۔ 
🔸 امامت كى راہ ہموار كرنا 

۱۵) امام مہدى عليہ السلام كے ليے راہ ہموار كرنا، كيونكہ عباسى حكمرانوں كى بوكھلاہٹ اور احمقانہ پن كى وجہ سے ظلم و ستم ميں انتہائى تيزى آ گئى ، اس ليے آخرى چار آئمہ عليہم السلام جلد شہيد كيے گئے۔ ايسے ميں امامت كى طرف سے يہ تدبير قرار پائى كہ مہدى آخر الزمان ع كے ليے راہ ہموار كى جائے۔ آپ عليہ السلام نے اس طرح سے امام زمان عج كے ليے راہ ہموار كى كہ غيبت كے زمانے ميں ايك بھى شيعہ فرقہ وجود ميں نہيں آيا۔ زمانہ حضور ميں ہر امام ع كى شہادت پر ايك الگ فرقہ جنم لے ليتا ليكن غيبت كے آغاز ميں كوئى فرقہ نظر نہيں آتا جس كى بنيادى وجہ امام نقى و عسكرى عليہما السلام كا كمال تدبير و تبليغ ہے ۔ 
🔸 اقتصادى مسائل 

۱۶) كوئى بھى سلطنت جب زوال كا شكار ہو تو وہاں سب سے پہلے دو مسائل پيدا ہوتے ہيں : نا امنيت و قتل و غارت اور دوسرا بھوك و افلاس۔ 
🔻 مسائل كے حل كے ليے سيرت امام نقى عليہ السلام : 

۱) سياسى كشمكش ميں امام عليہ السلام نے ظاہرى طور پر لا تعلقى كى روش كو اختيار كيا اور ان سياسى گروہوں اور جھگڑوں كے مقابلے ميں امامت كے سياسى جنبے كو معاشرے ميں ابھرنے كے ليے جماعت صالح كو تشكيل ديا۔ 

۲) مختلف فكرى انحراف كے مقابلے ميں پُر زور طريقے سے حق كو آشكار كرنا، خصوصا توحيد ، قرآن، نبوت و امامت كے موضوع پر خالص اسلامى فكر كو اجاگر كرنا، يہى وجہ ہے كہ امام نقى عليہ السلام سے كثير راويوں نے احاديث كو نقل كيا ۔ راويوں كى ايك بڑى تعداد كتب رجال ميں وارد ہوئى ہے جنہوں نے امام نقى عليہ السلام سے استفادہ كيا ۔  

۳) اخلاقى انحراف سے بچنے كے ليے امت اسلاميہ بالخصوص مكتب تشيع كو سخت ترين كلمات كے ساتھ وعظ و نصيحت كرنا اور جرائم كى روك تھام كے ليے دينى اقدار كو اختيار كرنے كى تدبير پيش كرنا 

۴) امامت كے حقيقى چہرے كو آشكار كرنے كے ليے شيعوں سے امام نقى عليہ السلام كا گہرا تعلق قائم كرنا، اور مختلف شہروں اور ديہاتوں ميں خاموشى كے ساتھ سفر كر كے شيعوں سے ارتباط قائم كرنا ۔ 

۵) امامت كى عظمت كو بيان كرنے كے ليے معارف سے بھر پور تعليمات كو نشر كرنا۔ 

۶) امام مہدى عليہ السلام كى راہ ہموار كرنے اور شيعوں تك دين حق كو پہنچانے كے ليے وكلاء كا ايك وسيع جال مملكتِ اسلامى ميں پھيلانا، انہى وكلاء ميں سے ۱۳ وكيل نماياں صورت ميں سامنے آئے جن ميں ايك عظيم شخصيت عثمان بن سعيد عمرى ہيں جوكہ امام حسن عسكرى اور امام مہدى عليہما السلام كے بھى وكيل خاص رہے۔ 

۷) ايسے شاگرد پرورش كيے جو اپنے اپنے علاقوں ميں مرجع قرار پائے اور مكتب تشيع كى بنياد ركھنے كا سبب قرار پائے اور انہى شاگردوں نے عظيم الشان تاليفات تحرير كيں جن ميں سے بعض كى تصانيف ہم تك پہنچى ہيں۔

۸) اقتصادى مسائل كے حل كے ليے جود و سخا اور عمومى عطا كرنے كى سيرت كو اختيار كيا اور ہر كس و ناكس كو جود و سخا كے سمندر سے فيضياب فرمايا۔ خصوصا مكتب تشيع كے گھرانوں تك كبھى خود پہنچتے اور كبھى وكلاء يا كسى كے ذريعے اموال پہنچاتے۔ اگرچے اقتصادى بحران اس سے كاملا حل نہيں ہوتا ليكن امت اسلاميہ كى ايك دھاڑس اس سے بند جاتى ہے اور سخاوت كى سيرت عام ہوتى ہے ۔ نيز تجارت پر لوگوں كو خصوصى طور پر ابھارا تاكہ اپنى معاش كا اہتمام كر سكيں ۔ بھيك مانگنے اور سائل بننے كى قباحت كو شدت سے آشكار كيا ۔ 
🔻 امام نقى عليہ السلام كى سيرت عظيمہ كا نتيجہ يہ نكلا كہ اسلامى معاشرہ ’’ حقيقى مركز ‘‘ كے گرد جمع ہونے لگ گيا اور نور امامت كى شعاع مختلف خطوں ميں جلوہ گر ہونے لگى تو ظالم نے امامت كا چراغ گل كرنے كى خاطر امام عليہ السلام كو ۲۵۴ ھ سامراء كے مقام پر ۴۱ سال كى عمر ميں شہيد كر ديا ۔ 
السلام عليك يا أبا الحسن يا على بن محمد ، الھادى النقى يا بن رسول اللہ، السلام عليك يا حجة اللہ على خلقہ، روحى وأرواحنا لہ الفداء ،

Share This Post